اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے مستقل نمائندے علی بہرامی نے خطے کے ممالک کو ایک سنگین اور ہنگامی پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی مزاحمت کو کمزور کیا گیا تو اسرائیل کے لیے خطے کی دیگر ریاستوں کو نشانہ بنانا انتہائی آسان ہو جائے گا۔
علی بہرامی نے اپنے خطاب میں صیہونی ریاست کو عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ”اس خبیث حکومت نے نہ صرف ہمارے خطے میں افراتفری پھیلائی ہے بلکہ امریکی صدر کو اپنے کھوکھلے منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والا ایک آلہ کار بنا دیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل صرف ایران پر حملہ آور نہیں ہے بلکہ فلسطین اور لبنان کو لہو لہان کر کے پوری دنیا کو انارکی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
اسی تناظر میں ‘ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیاء’ کے ترجمان نے عرب اور اسلامی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے ایک “سیکیورٹی یونین” (دفاعی اتحاد) قائم کرنے کی دعوت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا:
• خطے کے ممالک امریکہ اور اسرائیل سے پاک ایک ایسا سیکیورٹی میثاق تیار کریں جس کی بنیاد اسلام اور قرآن پر ہو۔
• انہوں نے سوال اٹھایا کہ: “امریکی فوجی اڈوں نے اس خطے کو سوائے بدامنی کے اب تک دیا کیا ہے؟”
واضح رہے کہ 28 فروری 2026 سے امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کے خلاف ایک مشترکہ فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور اسرائیلی مفادات پر براہِ راست حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
