لاہور: انتظامیہ سوتی رہی، ذہنی مریض مینٹل اسپتال بلڈ بینک کی ایمبولینس لیکر شاہدرہ اسپتال پہنچ گیا۔
ذرائع کے مطابق صبح 5 بجے اسپتال سو رہا تھا اور مریض نے دفتر سے چابی پکڑی اور ایمبولینس لیکر شاہدرہ اسپتال پہنچ گیا۔
ذہنی مریض نے شاہدرہ اسپتال پہنچ کر کہا ’میرا خون لے لو‘،اسپتال عملہ دنگ رہ گیا، پوچھا کیسے آئے؟ جواب میں مریض نے کہا کہ میں خود گاڑی چلا کر آیا ہوں۔
ذرائع کے مطابق مریض 2022 سے مینٹل اسپتال میں داخل ہے، مینٹل اسپتال انتظامیہ کی غفلت نے شہریوں کی جان خطرے میں ڈالے رکھی۔
واقعے کے بعد اسپتال میں ہلچل مچ گئی، چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی، انکوائری آرڈر میں 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
میڈیکل سپرٹنڈنٹ مینٹل اسپتال کا کہنا ہے کہ ہم نے چار رکنی انکوائری کمیٹی بنا دی ہے مگر سارا قصور بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کا ہے، بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی ایمبولینس کو ہمارے گیٹ پر نہیں روکا جاتا۔
