تہران: ایران پر جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران صوبہ یزد کے شہر اردکان میں واقع ایک اہم ایٹمی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں یلو کیک (یورینیم پاؤڈر) تیار کیا جاتا ہے، ایرانی حکام نے تابکاری کے کسی بڑے اخراج کی تردید کر دی ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ اس تنصیب پر کیا گیا جو جوہری ایندھن کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے یورینیم پاؤڈر کی پیداوار کا مرکز ہے۔ ، ابتدائی جائزوں کے مطابق حملے کے بعد کسی قسم کی تابکار مواد کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی قریبی آبادی یا شہریوں کو کسی خطرے کا سامنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورت حال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور متعلقہ ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے، حفاظتی اقدامات پہلے سے موجود تھے، جس کے باعث نقصان محدود رہا۔
یاد رہے کہ 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار تین سو چالیس سے زائد ایرانی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اعلیٰ قیادت سمیت دیگر اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور مختلف ممالک اس کے اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
