اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے “عمران خان ریلیز فورس” بنانے کا منصوبہ اندرونی اختلافات اور قانونی خدشات کے باعث واپس لے لیا، جسے پارٹی کے سخت موقف رکھنے والے حلقوں کے لیے دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
رمضان سے قبل خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اس فورس کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے کارکنوں کو منظم کرنا تھا۔
اس منصوبے میں رضاکاروں سے حلف لینا اور باقاعدہ رجسٹریشن کے بعد ایک منظم مہم چلانے کی تجویز شامل تھی، تاہم اسے جلد ہی پارٹی کے اندر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر علی خان نے اس تجویز کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی کسی فورس کی تشکیل عسکریت پسندی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔
بعد ازاں اندرونی مشاورت کے بعد پارٹی قیادت نے اس تصور کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب اس اقدام کو ایک وسیع سیاسی تحریک کی شکل دی جا رہی ہے جو تمام حامیوں کے لیے کھلی ہوگی اور جس میں حلف برداری یا کسی رسمی فورس جیسی ساخت شامل نہیں ہوگی۔
