خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارش کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعات میں مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے جبکہ بعض مقامات پر آسمانی بجلی گرنے کے باعث مجموعی طور پر 16 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ صوبے کے متعدد اضلاع میں وقفے وقفے سے جاری بارشوں نے جہاں معمولاتِ زندگی متاثر کیے ہیں، وہیں کمزور تعمیرات کے باعث جانی و مالی نقصان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایبٹ آباد میں ایک مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار بچوں سمیت پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بنوں میں گزشتہ دو روز کے دوران مختلف واقعات میں آٹھ افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ کوہاٹ میں ایک کچے مکان کی چھت گرنے کے نتیجے میں دو بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ بٹگرام میں بھی اسی نوعیت کے ایک حادثے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ ایک خاتون زخمی ہو گئی، جسے قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا۔
ادھر سوات میں مسلسل بارشوں کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں مالم جبہ روڈ سمیت متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے ہیں، جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ دریائے سوات میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث مینگورہ کے نشیبی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب ملک کے دیگر حصوں میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پنجاب، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کے ساتھ بعض مقامات پر ژالہ باری بھی ہوئی، جس سے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ بلوچستان میں بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں چار افراد جاں بحق اور سات زخمی ہوگئے۔
شمالی اور مشرقی بلوچستان کے علاوہ کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں دوسرے روز بھی وقفے وقفے سے شدید بارش اور ژالہ باری کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں سیلابی ریلوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ این ففٹی ہائی وے کے دانا سر اور درابند کے مقامات سمیت متعدد شاہراہیں بند ہوگئیں، جس کے باعث بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے درمیان زمینی رابطہ متاثر ہوا ہے۔
پنجاب کے اضلاع سرگودھا، حافظ آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی بارش اور ژالہ باری ریکارڈ کی گئی، جبکہ آزاد کشمیر کے شہر مظفر آباد میں تیز بارش کے ساتھ ژالہ باری ہوئی۔ وادی نیلم میں بارش اور پہاڑوں پر وقفے وقفے سے برف باری کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس کے باعث بجلی کا نظام متاثر ہوا ہے اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب متعدد رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں، جس سے مقامی آبادی کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
