واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 39 برس پرانی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں ایران کے خلاف جارحانہ مؤقف اپناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو نے عالمی سیاست کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سن 1987 میں ریکارڈ کیے گئے اس انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تیل کی تنصیبات پر قبضے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کو ایران کی سرزمین میں داخل ہو کر وہاں موجود اہم تیل کے ذخائر کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے۔
اس پرانی ویڈیو کی بازگشت ایک ایسے وقت میں سنائی دے رہی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں زمینی کارروائی کے ذریعے افزودہ یورینیم کے مراکز کو ہدف بنانے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پرانی سوچ اب پالیسی بن سکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت اپنی گفتگو میں کہا تھا کہ ایرانیوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر امریکا کو ان کے تیل پر قبضہ کر لینا چاہیے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ ہوتے تو مشرقِ وسطیٰ میں جنگی حکمت عملی کے تحت یہی اقدامات کرتے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی یہ دیرینہ خواہش اب موجودہ علاقائی کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔ اگرچہ یہ انٹرویو چار دہائی پرانا ہے تاہم اس میں پیش کردہ خیالات موجودہ امریکی انتظامیہ کی ایران کے حوالے سے سخت گیر پالیسیوں کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے زمینی کارروائی کا تذکرہ اس وقت عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ پرانی ویڈیو اب ان کے مخالفین کے لیے ایک اہم ہتھیار بن گئی ہے جو ان کی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔
حالات بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال میں پرانے بیانات نئی پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں۔ عالمی برادری اب یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا امریکی صدر واقعی اپنے برسوں پرانے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں یا یہ صرف سیاسی بیان بازی ہے۔
