اسلام آباد: ملک بھر میں ایندھن کے شدید بحران اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر 3 ہفتوں تک بند رہنے والے تمام تعلیمی ادارے آج سے دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔ اسکولوں اور کالجز میں طویل تعطیلات کے بعد تدریسی عمل کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے ایندھن کے بحران کی وجہ سے تعلیمی ادارے 10 مارچ سے بند کیے گئے تھے۔ ان تعطیلات میں عیدالفطر کی چھٹیاں بھی شامل تھیں، جس سے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل متاثر ہوا تھا۔
دوسری جانب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سرکاری اور نجی جامعات میں بھی آج سے فزیکل کلاسز بحال کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے دوبارہ کھلنے کے بعد اب تعلیمی سال کا آغاز معمول کے مطابق اپنے طے شدہ شیڈول کے تحت ہوگا۔
سوشل میڈیا پر گزشتہ کچھ دنوں سے چھٹیاں 15 اپریل تک بڑھانے کی قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں۔ حکومت نے ان خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ تعلیمی عمل میں مزید کسی قسم کی تاخیر نہیں کی جائے گی۔
محکمہ تعلیم سندھ نے بھی اسٹیرنگ کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ حکام نے طلبہ کو تاکید کی ہے کہ وہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں تاکہ بندش کے دوران ہونے والے تعلیمی نقصان کا ازالہ ممکن ہو سکے اور تعلیمی سال کامیابی سے مکمل ہو۔
صوبائی حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت اسکولوں میں ہفتہ وار 2 چھٹیاں دینے کا فیصلہ بھی برقرار رکھا ہے۔ اب تعلیمی اداروں میں ہفتہ اور اتوار کے روز تعطیل ہوا کرے گی۔ یہ فیصلہ آئندہ حکومتی احکامات تک صوبہ بھر میں نافذ العمل رہے گا اور تعلیمی نظام معمول پر چلے گا۔
طویل بندش کے بعد اسکول کھلنے سے والدین اور طلبہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
