English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بیرون ملک ملازمت کا جھانسا: پاکستانی نوجوان آن لائن اسکیمنگ کے خطرناک جال میں

القمر

کراچی: آن لائن اسکیمنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے پاکستانی نوجوانوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، جہاں انہیں بیرون ملک ملازمتوں کے سبز باغ دکھا کر غلامی کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔  جدید دور کی یہ اسکیمنگ دراصل ایک نئے قسم کا بیگار کیمپ بن چکی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹارگٹڈ اشتہارات کے ذریعے نوجوانوں کو بھاری تنخواہوں، مفت ویزا اور رہائش کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ ایف آئی اے امیگریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے بتایا کہ اب روایتی ڈنکی کے بجائے تعلیم یافتہ نوجوان اس خطرناک جال میں بڑی تعداد میں ٹریپ ہو رہے ہیں۔

یہ جعل ساز کمپنیاں ابتدا میں نوجوانوں کو ورک ویزا دینے کے بجائے وزٹ ویزے پر بلا لیتی ہیں، جس سے ان کی قانونی حیثیت شروع سے ہی غیر قانونی بن جاتی ہے۔ وہاں پہنچتے ہی ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا جاتا ہے، جو انہیں وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑتا۔

شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ تربیت مکمل ہونے کے بعد نوجوانوں کو بیگار کیمپوں کی طرح ڈرا دھمکا کر گھنٹوں جبری کام لیا جاتا ہے اور اگر کوئی نوجوان ملازمت چھوڑنے کی ہمت کرے تو اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رپورٹ کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے، جس سے وہ خوفزدہ ہو جاتا ہے۔

سفارت خانوں تک پہنچنے والی شکایات بھی اکثر بے سود ثابت ہوتی ہیں۔ جب یہ نوجوان پکڑے جاتے ہیں تو متعلقہ ممالک انہیں ڈی پورٹ کر دیتے ہیں، جس سے ان کا سفری ریکارڈ داغ دار ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ نوجوان کسی دوسرے ملک کا سفر کرنے کے بھی قابل نہیں رہتے اور بلیک لسٹ ہو جاتے ہیں۔

حکام کے مطابق نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والے ایسے پرکشش اشتہارات پر اندھا اعتماد کرنے سے گریز کریں۔ بیرون ملک ملازمت کے لیے صرف سرکاری اور تصدیق شدہ ذرائع کا انتخاب کریں، کیونکہ ذرا سی  لاپروائی آپ کی پوری زندگی کو تباہی کے دہانے پر لا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے