English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بغداد میں امریکی خاتون صحافی اغوا، سیکیورٹی فورسز کا بڑا سرچ آپریشن شروع

القمر

بغداد: عراق کے دارالحکومت بغداد سے ایک غیر ملکی خاتون صحافی کے اغوا کے واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

عراقی وزارتِ داخلہ کے مطابق اغوا ہونے والی خاتون کی شناخت شیلی کٹلسن کے نام سے ہوئی ہے جو ایک فری لانس صحافی کے طور پر مشرقِ وسطیٰ کے معاملات پر رپورٹنگ کرتی رہی ہیں،مغوی خاتون امریکی شہری ہیں، مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ بغداد کی مصروف مرکزی شاہراہ سعدون اسٹریٹ پر پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے خاتون صحافی کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر اغوا کر لیا، اغوا کار دو گاڑیوں میں سوار تھے اور واردات کے بعد جنوب مغرب کی جانب فرار ہو گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تعاقب کے دوران اغوا کاروں کی ایک گاڑی صوبہ بابل کے علاقے الحصوہ کے قریب الٹ گئی، جس کے نتیجے میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ اغوا کار خاتون صحافی کو دوسری گاڑی میں منتقل کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

عراقی فورسز نے فوری طور پر تمام چیک پوسٹوں کو الرٹ کر دیا ہے جبکہ انٹیلیجنس بنیادوں پر مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ مغوی خاتون کو بحفاظت بازیاب کرایا جا سکے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے عالمی عوامی امور کے معاون وزیر ڈیلن جانسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گرفتار مشتبہ شخص کا تعلق ایران نواز عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ سے ہو سکتا ہے۔

امریکی دفترِ خارجہ نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی شہریوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام نے عراقی حکومت کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

ادھر مشرقِ وسطیٰ کی معروف ویب سائٹ ال مانیٹر، جس کے لیے شیلی کٹلسن رپورٹنگ کرتی رہی ہیں،انہو نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور محفوظ رہائی کا مطالبہ کیا ہے، وہ طویل عرصے سے عراق اور شام جیسے حساس علاقوں سے رپورٹنگ کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ عراق میں ماضی میں بھی غیر ملکی شہریوں کے اغوا کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ دو ہزار 23 میں پرنسٹن یونیورسٹی کی طالبہ الزبتھ تسورکوف بغداد سے لاپتہ ہو گئی تھیں، جنہیں بعد ازاں ستمبر دو ہزار 25 میں بازیاب کرایا گیا،انہیں بھی ایران نواز گروہ کے پاس قید رکھا گیا تھا، اس گروہ نے باضابطہ طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔

حکام کے مطابق موجودہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ مغوی صحافی کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے