مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب اپنے بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان تنازعہ 35ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دوران ایران نے امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں کی 91ویں لہر کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے اپنے تازہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ “آپریشن وعدہ صادق 4” کے تحت عسکری کارروائیوں کا نیا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے، حملوں کی یہ تازہ لہر دراصل جاری سلسلے کی 91ویں کڑی ہے، اس لہر میں ایرانی مسلح افواج نے مزاحمتی محاذوں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکا سے متعلق مختلف اہم اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے وسیع پیمانے پر نشانہ بنایا، اس دوران خطے میں امریکا اور اسرائیل کی فضائیہ سے وابستہ 7 اہم اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحرین میں قائم ایک بین الاقوامی ٹیکنالوجی ادارے کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ مرکز کو بھی ہدف بنایا گیا، اس کارروائی کے بعد متعلقہ کمپنی کی جانب سے مبینہ طور پر خطے میں اپنی سرگرمیوں کو محدود یا مکمل طور پر معطل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے، میدانِ جنگ میں ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل کو خطے میں اپنی گرفت برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اب وہ براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے مبینہ طور پر مخصوص اہداف پر حملوں اور تخریبی کارروائیوں کا سہارا لے رہے ہیں، اگر ایران کے خلاف اقدامات کا سلسلہ جاری رہا تو آئندہ مزید کمپنیوں اور حساس تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی کارروائی کے نتیجے میں وسطی ایران کی حدود میں جدید ترین امریکی لڑاکا طیارہ ایف 35 مار گرایا گیا ہے، یہ واقعہ ایرانی فضاؤں میں پیش آیا جہاں طیارہ نشانے پر آیا، تاہم امریکی طیارے کے پائلٹ کے بارے میں تاحال کوئی مستند معلومات سامنے نہیں آ سکیں، بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طیارے میں اچانک دھماکہ ہوا جس کے باعث غالب امکان ہے کہ پائلٹ کو باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا، دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی طرف سے اس دعوے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا جس کے باعث اس واقعے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی اور صورتحال بدستور غیر واضح ہے۔
Follow: https://t.co/mLGcUTS2ei pic.twitter.com/qnCKELV2SP
— Press TV 🔻 (@PressTV) April 3, 2026
ایرانی وزارتِ صحت نے اپنے تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران میں 28 فروری سے ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 26 ہزار 500 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ان حملوں کے باعث 600 سے زائد اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق ایران کے سابق وزیر خارجہ کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں، امریکا اور اسرائیل کے حملے میں تہران میں واقع ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں ہونے والی اس کارروائی کے دوران ان کی اہلیہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں جبکہ ڈاکٹر کمال خرازی کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ طویل عرصے تک بے ہوشی کی کیفیت یعنی کوما میں رہے، طبی عملے کی مسلسل کوششوں کے باوجود ان کی حالت سنبھل نہ سکی اور بالآخر وہ دم توڑ گئے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنانی مسلح تنظیم حزب اللہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو شیلنگ کا نشانہ بنایا جبکہ دوسری جانب یمن میں سرگرم حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے بھی اسرائیل کی جانب میزائل فائر کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر اسرائیلی فوج نے یمن کی جانب سے میزائل حملے کی باقاعدہ تصدیق بھی کر دی ہے۔
لبنان کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ 2 مارچ سے اب تک جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 1345 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 4,040 سے تجاوز کر گئی ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز سمیت دو ہزار سے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ ان حملوں کے ردعمل میں ایران نے امریکا اور اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے اسرائیل پر براہ راست حملے کیے جبکہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بھی ڈرون اور میزائل کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
