لاہور:مہنگائی کی شرح 9 فیصد سے اوپر چلی گئی، صرف 1 ہفتے میں ایل پی جی، گوشت، انڈے، دالیں، دودھ سمیت متعدد اشیاءمہنگی ہونے سے مہنگائی کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔
حالیہ ہفتے سالانہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح بھی 8.24 فیصد سے بڑھ کر9.12 فیصد ہوگئی ہے۔
حالیہ ہفتے15اشیائے ضروریہ مہنگی، 09اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ 27 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس کے مطابق حالیہ ہفتے مہنگی ہونے والی اشیا میں مٹن، ٹماٹر، بیف، انڈے،دودھ اور زندہ مرغی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں13.28 فیصد،انڈوں کی قیمتوں میں2.23 فیصد، چکن کی قیمتوں میں2.13 فیصد، دال ماش کی قیمتوں میں1.74 فیصد،مٹن کی قیمتوں میں1.54 فیصد، تازہ کھلے دودھ کی قیمتوں میں0.63 فیصد،دہی کی قیمتوں میں0.60 فیصد، جارجیٹ کی قیمتوں میں0.42 فیصد،بیف کی قیمتوں میں0.39 فیصد، اور دال مسور کی قیمتوں میں0.28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
آلو کی قیمتوں میں1.22 فیصد،ٹماٹر کی قیمتوں میں6.03 فیصد، پیازکی قیمتوں میں1.21 فیصد، لہسن کی قیمتوں میں3.38 فیصد، چینی کی قیمتوں میں0.15 فیصد،سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں0.33 فیصد اور آٹے کی قیمتوں میں 0.92فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.70 فیصد اضافے کے ساتھ 7.46فیصد رہی۔
17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.75فیصد اضافے کے ساتھ9.28فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.82فیصد اضافے کے ساتھ8.24فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.94فیصد اضافے کے ساتھ7.92فیصد رہی ۔
44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.15فیصد اضافے کے ساتھ 8.70فیصدرہی ہے۔
