اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں اعتراف کیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدہ حالات کے سبب براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 55 فیصد تک بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ حکومت نے اس گراوٹ کو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم آفس کے ذمہ داران نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے مابین جاری جنگی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان وجوہات سے سرمایہ کاری کی آمد متاثر ہوئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جاری مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کی مجموعی آمد 3088.7 ملین ڈالر سے کم ہو کر 2409.2 ملین ڈالر پر آگئی ہے۔ یہ صورتحال ملک میں سرمایہ کاری کے اہداف حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ بنی ہے۔
حکومت نے مزید کہا کہ گزشتہ 2 مالی سالوں کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد بالترتیب 3166.3 اور 4280.3 ملین ڈالر رہی تھی، جو کہ گزشتہ مدت کے مقابلے میں 35.2 فیصد زائد تھی،تاہم حالیہ جغرافیائی سیاسی بحران نے اس مثبت رفتار کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
ایوان میں پیش کردہ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان چیلنجز کے باوجود موجودہ حکومت نے معاشی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ مہنگائی کی شرح جو ماضی میں 30 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب تیزی سے کم ہو کر 5.5 فیصد کی سطح پر آ چکی ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ ملک میں شرح سود کو بھی 22.5 فیصد سے کم کر کے 10.5 فیصد تک لایا گیا ہے جس سے کاروباری سرگرمیوں کو سہولت ملی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ٹی کے شعبے میں برآمدات کا حجم سالانہ 3 ارب ڈالر تک پہنچنا حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔
حکومت نے اپنے بیان میں عزم ظاہر کیا کہ وہ علاقائی صورتحال کے باوجود معاشی اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی۔
حکومتی نمائندوں نے یقین دلایا کہ معاشی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج طویل مدت میں ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
