اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد اب ان کی درآمدی قیمتوں کا انکشاف ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول 271 روپے اور ڈیزل 496 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں موصول ہونے والی تفصیلات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی تو لاگو نہیں کر رہی ہے تاہم کسٹمز ڈیوٹی پہلے سے نافذ ہے۔
پیٹرول پر 24 روپے اور ڈیزل پر 35 روپے فی لیٹر کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں حکومتی خزانے میں جمع کروائے جا رہے ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا عمل جاری ہے جہاں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن بھی شامل کیا گیا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل پر کمپنیوں کا مارجن 7 روپے سے زائد فی لیٹر وصول کیا جا رہا ہے جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
علاوہ ازیں ان لینڈ فولیٹ مارجن کی مد میں پیٹرول پر 7 روپے اور ڈیزل پر 4 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات پر 2 روپے فی لیٹر کلائنٹ سپورٹ لیوی بھی عائد ہے جبکہ ڈیلرز کو بھی 8 روپے سے زائد مارجن دیا جا رہا ہے۔
حکومت نے پیٹرول پر عائد پیٹرولیم لیوی 160 پیسے فی لیٹر مقرر کی ہے جبکہ ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی کو ختم کر کے صفر کر دیا گیا ہے۔ درآمدی پیٹرول کی ادائیگی 279 روپے کے ایکسچینج ریٹ پر کی جا رہی ہے جس کا بوجھ براہ راست عوام اٹھا رہے ہیں۔
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے کا بڑا اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول 458 روپے جبکہ ڈیزل 520 روپے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ چکا ہے جس سے ملک بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان برپا ہے۔
حکومت کے ان اقدامات سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عوام حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی ٹیکسوں اور لیوی کو کم کرے تاکہ انہیں ریلیف مل سکے۔
