English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایران کا سعودی تیل پائپ لائن پر حملہ، عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ

القمر

ریاض: ایران کی جانب سے سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی توانائی منڈی میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے اور ماہرین نے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اس پائپ لائن پر حملہ کیا جو سعودی عرب کے مشرقی تیل پیدا کرنے والے علاقے کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبو سے ملاتی ہے۔ یہ پائپ لائن روزانہ تقریباً سات ملین بیرل خام تیل منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی اور اسے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس پائپ لائن کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو سعودی عرب اپنے تیل اور گیس کی برآمدات کو جاری رکھ سکے، تاہم حالیہ حملے کے بعد اس اہم تنصیب کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

رپورٹس کے مطابق حملے کے نتیجے میں نہ صرف پائپ لائن بلکہ دیگر اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ متعلقہ حکام نقصان کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہیں جبکہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر سپلائی میں خلل آیا تو عالمی توانائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سعودی کمپنی آرامکو یومیہ تقریباً دو ملین بیرل تیل اندرونِ ملک استعمال کرتی ہے، جبکہ برآمد کے لیے تقریباً پانچ ملین بیرل تیل دستیاب ہوتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ینبو بندرگاہ سے تیل کی لوڈنگ اپنی مکمل صلاحیت یعنی تقریباً چار اعشاریہ چھ ملین بیرل یومیہ تک رہی، حتیٰ کہ اس سے قبل ہونے والے حملوں کے باوجود ترسیل کا عمل جاری رکھا گیا تھا۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خطے میں متعدد اہداف کو میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا، جن میں غیر ملکی کمپنیوں سے متعلق تیل کی تنصیبات بھی شامل ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے