واشنگٹن: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر سعودی فنڈ برائے ترقی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمان المرشد سے اہم ملاقات کی۔
اس اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور ترقیاتی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس ملاقات کو پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے اس موقع پر سعودی فنڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے حالیہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔
ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اس کے عالمی توانائی کے شعبے پر ممکنہ اثرات پر بھی بات چیت کی گئی۔
وزیر خزانہ نے اس تنازع کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں استحکام عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے اور اس کے لیے سفارتی کوششوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔
بعد ازاں وزیر خزانہ نے ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے منیجنگ ڈائریکٹر تسوتومو یاماموتو سے بھی ملاقات کی، جس میں 500 ملین ڈالر کی مجوزہ تجارتی مالیاتی سہولت پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے اس سہولت کو خوراک، توانائی، کھاد اور دیگر اہم درآمدات کی مالی اعانت کے لیے اہم قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مالیاتی سہولت کو جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کو بروقت پورا کیا جا سکے۔ ملاقات میں جاری ثالثی مقدمات اور ان کے ممکنہ مالی اثرات پر بھی بات چیت کی گئی، جس میں شفاف اور منصفانہ حل کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی استحکام کے لیے باہمی تعاون کو مزید بڑھایا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ ملاقاتیں پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانے اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہیں۔
