واشنگٹن: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ان ملاقاتوں کو پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے ملاقات میں کاروبار دوست ماحول کے فروغ، سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات میں بہتری اور مارکیٹ تک رسائی بڑھانے کے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان پائیدار اقتصادی شراکت داری کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔
ملاقات میں دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے، نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو آسان بنانے پر بھی بات چیت کی گئی۔
فریقین نے جاری تجارتی مذاکرات میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے مثبت سمت میں اہم قدم قرار دیا، جس سے مستقبل میں مزید تعاون کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ وزیر خزانہ نے امریکی محکمہ خزانہ کے ڈپٹی انڈر سیکرٹری جوناتھن گرینسٹین سے بھی ملاقات کی، جس میں آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پروگرام اور اصلاحاتی اقدامات پر گفتگو کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کامیابی سے مکمل کی ہے اور آئندہ مالی ذمہ داریوں کو بروقت ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ملاقاتوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے معاشی اثرات پر بھی غور کیا گیا، خاص طور پر ترسیلات زر اور بیرونی شعبے پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے امریکی حکام کو زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے اور معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی اور ایک مضبوط، متنوع اور پائیدار شراکت داری کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
