سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مالی معاونت میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے مزید 3 ارب ڈالر فراہم کرنے اور پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں توسیع کا اعلان کیا ہے، جسے پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی و کی رپورت کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اضافی ڈپازٹس کی ادائیگی آئندہ ہفتے متوقع ہے، جو ملکی زرمبادلہ ذخائر کو سہارا فراہم کرے گی۔
وزارت خزانہ کے مطابق سعودی عرب کا موجودہ 5 ارب ڈالر کا ڈپازٹ اب سالانہ بنیاد پر رول اوور کی شرط سے آزاد ہو کر طویل مدت کے لیے بڑھا دیا گیا ہے، جس سے پاکستان کو مالیاتی استحکام حاصل کرنے میں مزید سہولت ملے گی۔
اس اقدام کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اقتصادی تعلقات کی عکاسی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے واشنگٹن ڈی سی میں عالمی مالیاتی اداروں کے اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مالی معاونت ایسے وقت میں فراہم کی جا رہی ہے جب پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں اور مالیاتی ضروریات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف بیرونی کھاتوں کو استحکام ملے گا بلکہ معیشت پر دباؤ بھی کم ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت زرمبادلہ ذخائر کو تقریباً 18 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے، جو درآمدات کے لیے ایک محفوظ سطح سمجھی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے حالیہ یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی کو بھی ایک مثبت اشارہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اپنی مالی ذمہ داریاں مکمل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
محمد اورنگزیب نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی وزیر خزانہ کی مسلسل حمایت پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ حکومت عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پالیسی تسلسل برقرار رکھے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اپنی بیرونی فنانسنگ حکمت عملی کے تحت نئے مالیاتی ذرائع تلاش کر رہا ہے، جن میں گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام اور پانڈا بانڈ جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانے اور عالمی سطح پر اس کی مالی ساکھ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
