انقرہ : ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکا اور ایران سے جنگ بندی مذاکرات کو آگے بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بند مُٹھیاں لے کر بات چیت نہیں کی جا سکتی، اس لیے موجود موقع سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔
انقرہ میں حکمراں جماعت کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی سے مطمئن نہیں اور اسے اس عمل کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی حملے پائیدار امن کے امکانات کو متاثر کر رہے ہیں۔
صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کے تسلسل کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق خطے میں دیرپا امن اسی صورت ممکن ہے جب اسے اس صہیونی حکومت کو شامل کیے بغیر حاصل کیا جائے۔
انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے حالیہ دنوں میں سوشل ذرائع پر ترکیہ اور اپنی ذات پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ترکیہ پر انگلی نہیں اٹھا سکتا، اور جو لوگ ترکیہ کو نشانہ بناتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ترکیہ ایک معمولی ریاست نہیں۔
صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ ہمیشہ مظلوم فلسطینیوں کی آواز بنتا رہے گا اور ظالم کو ظالم اور قاتل کو قاتل کہتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے بچوں، ماؤں اور مقبوضہ مغربی کنارے کے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے، جبکہ لبنان میں بچوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر بھی خاموش نہیں رہیں گے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ترکیہ “گھر میں امن، دنیا میں امن” کے اصول پر قائم رہتے ہوئے ہمیشہ امن کا پیامبر بنے رہنے کے لیے تیار ہے، اور یہ ایک بہادر قوم ہے جو عزت کی زندگی اور موت دونوں کو وقار کے ساتھ دیکھتی ہے۔
