English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کینیڈا کی انٹیلی جنس نے بھارت پر ملک میں خفیہ مداخلت کے الزامات عائد کر دیے

القمر

کینیڈا کی انٹیلی جنس کی تازہ رپورٹ نے بین الاقوامی سطح پر ایک نیا سفارتی تنازع جنم دے دیا ہے، جس میں بھارت پر کینیڈا کی داخلی سیاست اور عوامی رائے پر خفیہ اثر انداز ہونے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ رپورٹ کینیڈین پارلیمنٹ میں پیش کی گئی، جہاں اس کے مندرجات نے سیاسی حلقوں میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن پر غیر ملکی مداخلت کے شبہات ظاہر کیے جاتے ہیں۔  بھارتی ریاستی یا غیر ریاستی عناصر نے کینیڈا میں بعض سیاستدانوں اور صحافیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، اور ایسے طریقے اختیار کیے جن کا مقصد مبینہ طور پر نگرانی، دباؤ اور خوف کی فضا قائم کرنا تھا۔

انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کینیڈا میں خالصتان تحریک سے جڑی سرگرمیوں کو قانونی سیاسی عمل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، اور بعض شہری پرامن انداز میں اس تحریک کی حمایت میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اس نوعیت کی غیر پُرتشدد سیاسی حمایت کو کینیڈین قانون کے تحت دہشت گردی کے زمرے میں شمار نہیں کیا جاتا۔

دستاویز میں عالمی جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور بعض گروہوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں بشنوئی گینگ جیسے عناصر کو علاقائی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

تاہم رپورٹ میں اس حوالے سے بھارت کے مبینہ کردار سے متعلق تفصیلات کو حساس نوعیت کا قرار دیتے ہوئے وسیع تناظر میں دیکھا گیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد بھارت اور کینیڈا کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، بھارت ماضی میں خود کو دہشت گردی سے متاثر ملک کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، تاہم اب اسے خود غیر ملکی مداخلت کے الزامات کا سامنا ہے، جس نے اس کے بیانیے کو بین الاقوامی سطح پر نئی بحث میں ڈال دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ریاستی مداخلت اور سیاسی اثرورسوخ کے حوالے سے بھی نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے