امریکا اور ایران کے درمیان بیک ڈور جنگ بندی مذاکرات جاری ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم نہ ہو سکی، جہاں تازہ واقعے میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق رات گئے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ نے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا جس پر ایران کا پرچم لہرا رہا تھا۔ جہاز اس وقت بحیرہ عمان کے پانیوں میں سفر کر رہا تھا جب مبینہ طور پر یہ حملہ کیا گیا۔
صوبہ ہرمزگان کے ایک عہدیدار محمد رازمہر نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے وقت جہاز میں 15 افراد موجود تھے۔ ان کے مطابق حملے کے نتیجے میں 10 ملاح شدید زخمی ہوئے جبکہ 5 افراد لاپتا ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ زخمی ہونے والے ملاحوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے غیر رسمی سفارتی رابطے اور بیک ڈور مذاکرات جاری ہیں، اب تک امریکا کی جانب سے اس مبینہ حملے کی نہ تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔