بیجنگ: آبنائے ہرمز کے حساس سمندری راستے پر چین کے ایک تیل بردار جہاز کو نامعلوم سمت سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد خطے میں تجارتی جہازوں کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے چینی جہاز پر حملہ کیا گیا ہے جس میں تیل کی مصنوعات موجود تھیں اور جہاز پر چینی شہری بھی سوار تھے۔
حملے کے فوری بعد چینی حکام نے صورتحال کا جائزہ لیا اور خوش قسمتی سے جہاز پر موجود عملے کا کوئی بھی فرد اس واقعے میں زخمی نہیں ہوا ہے، تاہم اس حملے کے محرکات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے چینی حکام اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات پر چین کو شدید تشویش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی تجارت کی اہم گزرگاہوں پر اس طرح کے واقعات معاشی استحکام کے لیے خطرہ ہیں جن کی روک تھام ضروری ہے۔
اس واقعے سے ایک ہفتہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک جہاز کو آبنائے ہرمز پر پکڑا گیا ہے جو ایران کی جانب رواں دواں تھا اور اس میں چین کی جانب سے بھیجا گیا کوئی تحفہ موجود تھا۔ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنے خوشگوار تعلقات کا ذکر بھی کیا تھا۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ موجودہ حملہ کس نے اور کن وجوہات کی بنا پر کیا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حساس آبی گزرگاہ پر جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سے نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی سپلائی چین کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
چین کی جانب سے اس معاملے پر باقاعدہ تصدیق کے بعد عالمی برادری اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ بیجنگ اس معاملے پر کیا ردعمل دیتا ہے۔
سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے خطے میں موجود عالمی قوتیں بھی صورتحال کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں۔
