پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے اپنے جوہری دفاعی قوانین میں انتہائی خطرناک اور غیر معمولی ترامیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک کے سربراہ کم جونگ اُن کو ہلاک کیے جانے یا حکمرانی کے ناقابل ہونے پر خودکار جوہری حملہ کیا جائے گا۔
یہ آئینی ترمیم مارچ میں منظور کی گئی تھی جس کا مقصد جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو دشمن کے ممکنہ حملے سے محفوظ بنانا ہے۔ جوہری پالیسی کے آرٹیکل 3 میں شامل کی گئی یہ نئی شق کسی بھی بیرونی جارحیت پر فوری اور خودکار ایٹمی ردعمل کی ضمانت دیتی ہے۔
اس جارحانہ پالیسی کی بنیادی وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حالیہ تناظر میں پیش آنے والے واقعات ہیں۔
شمالی کوریا کو شدید خدشہ ہے کہ ان کی اعلیٰ قیادت کو بھی اسی نوعیت کے سییکورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شمالی کوریا کے سخت سرحدی کنٹرول اور خفیہ ایجنسیوں کی سخت نگرانی کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا خودکار نظام ہی ملک کی بقا کا واحد ضامن ہے۔ اس طرح کا اقدام عالمی سطح پر ایک نئی بحث اور تشویش کو جنم دے رہا ہے۔
اس کے علاوہ کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب 155 ملی میٹر کے جدید ترین خودکار توپ خانے کی تعیناتی کا بھی اعلان کیا ہے۔ 60 کلومیٹر تک مار کرنے والے یہ ہتھیار شمالی کوریا کی زمینی جنگی صلاحیتوں کو کئی گنا بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کم جونگ اُن نے ان نئے ہتھیاروں کی تیاری اور آزمائش کا خود جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ملکی دفاع کو مضبوط بنانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی اور دشمنوں کو کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے باز رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
اگرچہ شمالی کوریا کی حدود میں کسی بیرونی قوت کا داخلہ یا اعلیٰ قیادت تک پہنچنا انتہائی مشکل ہے، تاہم نئی قانون سازی اس بات کا اشارہ ہے کہ پیانگ یانگ نے اپنی قومی سلامتی کے لیے جوہری ہتھیاروں کو آخری اور حتمی ہتھیار کے طور پر منتخب کر لیا ہے۔
