یورپی ملک ہنگری میں سولہ برس تک اقتدار میں رہنے والے وزیراعظم وکٹر اوربان کے دور کا اختتام ہو گیا جبکہ سینٹر رائٹ جماعت تیسزا پارٹی کے رہنما پیٹر میگیار نے ملک کے نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا۔
45 سالہ پیٹر میگیار نے گزشتہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کی جماعت نے 199 رکنی پارلیمنٹ میں 141 نشستیں حاصل کرکے واضح اکثریت اپنے نام کی، جس کے بعد ان کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوئی۔
حلف برداری کی تقریب دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں واقع تاریخی پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوئی، جہاں ملکی و غیر ملکی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کی ایک اہم اور علامتی بات یہ تھی کہ یورپی یونین کا جھنڈا بارہ برس بعد دوبارہ پارلیمنٹ کے اندر آویزاں کیا گیا، جسے نئی حکومت نے یورپ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی علامت قرار دیا۔
اپنے پہلے خطاب میں وزیراعظم پیٹر میگیار نے کہا کہ ہنگری اب ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو رہا ہے اور ملک کو معاشی و سیاسی جمود سے نکالنے کے لیے بڑے فیصلے کیے جائیں گے، وہ تبدیلی کے اس سفر میں حکومت کا ساتھ دیں تاکہ ملک کو ترقی اور استحکام کی نئی راہ پر گامزن کیا جا سکے، ان کی حکومت شفافیت، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کے فروغ کو ترجیح دے گی۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم وکٹر اوربان کے دور حکومت میں ہنگری کے روس کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے تھے جبکہ انسانی حقوق، عدالتی آزادی اور قانون کی حکمرانی سے متعلق معاملات پر یورپی یونین کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ انہی خدشات کے باعث یورپی یونین نے ہنگری کے تقریباً 20 ارب ڈالر کے فنڈز منجمد کر رکھے تھے۔
پیٹر میگیار 2024 سے قبل ہنگری کی سیاست میں زیادہ معروف شخصیت نہیں سمجھے جاتے تھے، وکٹر اوربان کی جماعت “فیدیز” سے اختلافات کے بعد وہ تیزی سے عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور مختصر عرصے میں ملکی سیاست کے اہم ترین رہنما بن کر سامنے آئے۔
