اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک کی مجموعی صورتحال، امن و امان، مہنگائی اور آئینی ترمیمات پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دو صوبے بدامنی کا گڑھ بن چکے ہیں اور مختلف علاقوں میں حکومتی رٹ کمزور ہو رہی ہے، باجوڑ، بنوں اور شمالی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال سنگین ہے جہاں درجنوں افراد شہید ہو چکے ہیں، اس کے باوجود قومی سطح پر اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم صرف معرکہ حق کے جشن مناتے رہیں گے اور عوام کو مرتے رہنے کے لیے چھوڑ دیں گے؟ پارلیمان میں عوامی مسائل پر مؤثر بحث نہیں ہو رہی اور اہم فیصلے ایوان کے بجائے بیرونی حلقوں میں کیے جا رہے ہیں۔
جے یو آئی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن شہید ہو چکے ہیں جبکہ آئین کے ساتھ کھڑے ہونے کے باوجود انہیں سزا کا سامنا ہے، پارلیمان کی آواز عوام تک نہیں پہنچنے دی جا رہی اور ایوان محض ربڑ اسٹیمپ بنتا جا رہا ہے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ خطے میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان میں ایندھن مہنگا کیوں ہے، جبکہ دیگر ممالک میں ایسا اضافہ نہیں دیکھا گیا۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور آئین سازی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے رول بیک کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں، جس سے وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے، مدارس، تعلیمی اصلاحات اور نجکاری کے معاملات پر حکومت کا رویہ تشویشناک ہے جبکہ بعض پالیسی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث اعتماد کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔
انہوں نے اپوزیشن سے واک آؤٹ کا مطالبہ بھی کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام اپنی روح کھو رہا ہے، اپوزیشن ایوان میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
