واشنگٹن: امریکا نے جوہری صلاحیت کی حامل اپنی طاقتور اوہائیو کلاس آبدوز جبرالٹر پہنچا دی ہے جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس پیشرفت کو عالمی سطح پر انتہائی اہم اور حساس دفاعی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی بحریہ نے اس حساس تعیناتی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ آبدوز بیلسٹک میزائل لے جانے اور سمندر سے جوہری وارہیڈ داغنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے نزدیک یہ آبدوز امریکی بحری نظام کا سب سے خفیہ اور خطرناک ترین ہتھیار تسلیم کی جاتی ہے۔
پینٹاگون کے حکام نے کہا کہ اس آبدوز کی جبرالٹر آمد کا مقصد نیٹو اتحادیوں کے ساتھ اپنے عزم کو عملی طور پر ثابت کرنا ہے۔ اسے فوجی حلقوں میں بومر کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے جو اپنے ساتھ تباہ کن جوہری صلاحیت کے میزائل لے جانے کی اہلیت رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کے سمندری راستوں خاص طور پر آبنائے ہرمز پر ایران اور امریکا کے مابین شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ ایران نے پہلے ہی اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکابندی کر رکھی ہے جبکہ امریکی بحریہ بھی جوابی اقدامات کرتے ہوئے ایرانی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔
اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی نئی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے انہیں احمقانہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کا معاہدہ اب وینٹی لیٹر پر ہے اور اس کی زندگی کے محض چند گھنٹے ہی باقی بچے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کے مابین یہ کشیدگی اب ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں سفارتی راستے بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جوہری آبدوز کی تعیناتی نے خطے کے ممالک کے لیے خدشات پیدا کر دیے ہیں کیونکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی بڑے تنازع کا باعث بن سکتی ہے۔
بین الاقوامی برادری صورتحال کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے مسلسل اپیلیں کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں کوئی بھی فوجی اقدام نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے شدید خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔
