واشنگٹن: امریکا نے ایرانی پاسداران انقلاب کے مالیاتی نیٹ ورکس اور خفیہ ذرائع کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک بڑے انعامی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس پروگرام کے تحت جو بھی شخص پاسداران انقلاب کے مالی ڈھانچے سے متعلق ٹھوس اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرے گا اسے 15 ملین ڈالر تک کا بھاری انعام دیا جائے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے شروع کیے گئے اس انصاف پروگرام کا بنیادی مقصد ایران کے مبینہ مالیاتی نیٹ ورکس کی جڑیں تلاش کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے وہ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ پاسداران انقلاب کس طرح اپنے وسائل اور رقوم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہے۔
امریکا خاص طور پر ان ایکسچینج ہاؤسز، مالیاتی اداروں اور کاروباری ڈھانچوں کی نشاندہی کرنا چاہتا ہے جو اس نیٹ ورک کو سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان نیٹ ورکس کو بے نقاب کرکے پاسداران انقلاب کی مالی نقل و حرکت کو مؤثر طریقے سے محدود کیا جا سکتا ہے۔
حکام نے کہا کہ اس حکمت عملی کا مقصد ایران کے مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ غیر ریاستی گروہوں اور اپنے اتحادی نیٹ ورکس کی معاونت نہ کر سکیں۔ اس سے قبل بھی امریکا ایران کی عسکری سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتا آیا ہے اور یہ نیا اقدام اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ انعامی پیشکش ان تمام افراد کے لیے ہے جو اس نیٹ ورک میں کسی بھی سطح پر ملوث مالیاتی معاونین کی شناخت کروا سکیں۔ واشنگٹن کے نزدیک یہ ایک اہم قدم ہے جس سے ایران کے زیر زمین مالیاتی نظام کو توڑنے میں مدد ملے گی اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
عالمی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ایران پر سفارتی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ امریکی حکام اس پیشکش کو انتہائی سنجیدہ قرار دے رہے ہیں تاکہ پاسداران انقلاب کے خفیہ مالی نیٹ ورک کو عالمی سطح پر بے نقاب کرکے ان کی فعالیت کو مکمل طور پر ناکام بنایا جا سکے۔