ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجوہات: بھاری ٹیکسز کا انکشاف

اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیچھے کارفرما عوامل اور عوام سے وصول کیے جانے والے بھاری ٹیکسوں کی تفصیلات منظر عام پر آ گئی ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات حکومت کی آمدنی کا ایک اہم ترین ذریعہ بن چکی ہیں۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں مجموعی طور پر 198 روپے سے زائد کے ٹیکسز شامل ہیں جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر یہ بوجھ 113 روپے سے بھی تجاوز کر گیا ہے جو صارفین پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 117 روپے سے زائد لیوی، 22 روپے سے زائد کسٹم ڈیوٹی اور ساڑھے 7 روپے فریٹ مارجن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کلائمٹ سپورٹ لیوی اور ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی عوام سے اضافی رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔

تیل کمپنیوں اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے منافع پر بھی صارفین کو بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ پیٹرول پر 8 روپے سے زائد کمپنیوں کا منافع اور تقریباً  8 روپے ڈسٹری بیوشن مارجن عائد ہے جو پیٹرول کی مجموعی قیمت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے جس کی قیمت میں 42 روپے سے زائد لیوی اور 32 روپے سے زائد کسٹم ڈیوٹی شامل ہے۔ اس پر سمندری نقصان کی ڈیوٹی اور 20 ڈالر فی بیرل کا پریمیم بھی صارفین سے وصول کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت پیٹرول کے ہر لیٹر پر 143 روپے سے زائد کی رقم ٹیکس کی مد میں حاصل کر رہی ہے جبکہ آئل ڈسٹری بیوشن کمپنیاں بھی 54 روپے سے زائد کا منافع اور مارجن عوام کی جیبوں سے وصول کرنے میں مصروف ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شامل یہ تمام اضافی اخراجات اور ٹیکسز مل کر ایندھن کو انتہائی مہنگا بنا دیتے ہیں۔ یہ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ داخلی ٹیکسوں کا بوجھ عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں