کراچی: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے مختص قرض پروگرام کی اگلی قسط جاری کر دی ہے جس کے تحت 1.3 ارب ڈالر کی خطیر رقم ملکی خزانے میں منتقل کر دی گئی ہے۔ اس پیش رفت سے ملکی معاشی استحکام کو تقویت ملے گی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے باضابطہ طور پر اس رقم کی وصولی کی تصدیق کی ہے۔ مرکزی بینک نے بتایا کہ یہ فنڈز ای ایف ایف اور آر ایس ایف پروگراموں کے تحت پاکستان کو فراہم کیے گئے ہیں، جو معاشی بہتری کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے رواں ماہ کی 8 تاریخ کو تیسرے جائزے کے بعد اس قسط کی منظوری دی تھی۔ اس منظوری کے نتیجے میں پاکستان کو 760 ملین ایس ڈی آر اور 154 ملین ایس ڈی آر کی دوسری قسط کے تحت مجموعی طور پر 914 ملین ایس ڈی آر موصول ہوئے ہیں۔
مرکزی بینک کے حکام نے وضاحت کی کہ یہ موصول شدہ رقم براہِ راست زرمبادلہ کے ذخائر کا حصہ بنے گی۔ یہ فنڈز ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کریں گے، جس سے معیشت کے بیرونی کھاتوں پر دباؤ میں کمی آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق رواں مالی سال کے دوران آئی ایم ایف کی جانب سے جاری ہونے والی یہ رقم ملکی معیشت کے لیے ایک بڑی امداد ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان اس پروگرام کے تحت اربوں ڈالر کی امداد حاصل کر چکا ہے جس کا مقصد ملک میں معاشی نظم و ضبط اور ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
موجودہ پروگرام کے تحت اب تک پاکستان کو مجموعی طور پر 4.6 ارب ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں۔ پاکستان نے ستمبر 2024 میں 37 ماہ کے طویل مدتی ای ایف ایف پروگرام پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد ملکی معیشت کو بحرانوں سے نکال کر پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس رقم کی منتقلی سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی معاشی ساکھ میں بہتری آئے گی اور دیگر مالیاتی اداروں سے تعاون کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات پر عمل درآمد جاری ہے تاکہ آئی ایم ایف کے پروگرام کو کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔
