راولپنڈی: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ان کے اہل خانہ اور ذاتی معالج کی ملاقات کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جیل حکام نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں موقف اختیار کیا کہ قیدی سے ملاقات کے بعد باہر جا کر سیاسی گفتگو کی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی سے خاندان کے افراد کی ملاقات کے بعد ان کی بہن مریم وٹو سوشل میڈیا پر پیغامات جاری کرتی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے بشریٰ بی بی کی صاحبزادی مبشرہ مانیکا کی دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ والدہ سے اہل خانہ کی ملاقات، ذاتی معالج تک رسائی اور ضروری سامان کی فراہمی کی اجازت دی جائے۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ساجد بیگ پیش ہوئے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل نے ملاقات کی استدعا پر فیصلہ کر لیا ہے تاہم فی الحال ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجا نے موقف اپنایا کہ جن ٹوئٹس کا حوالہ دیا گیا ہے وہ مریم وٹو نے کی ہیں جو بیرون ملک رہتی ہیں، جبکہ کسی تیسرے شخص کے عمل پر بیٹی کو والدہ سے ملنے سے روکنا غیر منصفانہ ہے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ کیا ایسی کوئی ضمانت لی جا سکتی ہے جس سے خدشات دور ہو جائیں۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ وہ اس معاملے پر بیان حلفی لے لیں۔
سپرنٹنڈنٹ جیل نے وضاحت کی کہ اڈیالہ جیل میں 7ہزار 200 قیدی موجود ہیں، جہاں ملاقاتیں جیل مینوئل اور پریزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے تحت ہوتی ہیں۔
عدالت نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ جب ممکن ہو، بشریٰ بی بی سے ان کی بیٹی کی ملاقات کرائی جائے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت معاملے کے قانونی پہلوؤں کو سمجھ کر ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14 مئی تک ملتوی کر دی اور فریقین کو جیل رولز کے مطابق دلائل دینے کی ہدایت کی۔
