English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت نے 15 ہزار 300 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرنے کا بڑا ہدف مقرر کرلیا

القمر

اسلام آباد: وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری اور معاشی اصلاحات پر اہم مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس اہم مشق کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق اہداف کا حصول یقینی بنانا ہے۔

حکومت نے بجٹ سازی کے عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، احسن اقبال اور احد چیمہ سمیت دیگر متعلقہ حکام شامل کیے گئے ہیں۔ یہ کمیٹی ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا گہرائی سے جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کرے گی۔

دوسری جانب احد چیمہ کی سربراہی میں ایک الگ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے ٹیکس وصولی کو بہتر بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔

کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ ٹیکس چوری روکنے، انڈر رپورٹنگ ختم کرنے اور جعلی گوشواروں کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل نظام کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ یہ اقدامات محصولات میں اضافے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً 15 ہزار 300 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے حکومت نئے ٹیکس لگانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لانے اور اصلاحات متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے۔

آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق حکومت کو مجموعی طور پر 430 ارب روپے کے مالیاتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس میں 215 ارب روپے نئے ٹیکسوں کے ذریعے اور 215 ارب روپے انتظامی بہتری اور ٹیکس انفورسمنٹ کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے تاکہ بجٹ کے اہداف کو پورا کیا جا سکے۔

آئی ایم ایف کا وفد 20 مئی تک پاکستان میں قیام کرے گا اور معاشی ٹیم کے ساتھ مشاورت کرے گا۔ یہ وفد بجٹ اہداف، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری کے عمل اور مالی استحکام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی رپورٹ تیار کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے