کراچی میں صومالیہ کے بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی ملاحوں کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آگئی ہے، جس میں انہوں نے اپنی فوری رہائی کے لیے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے۔ ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد ملاحوں کے اہلِ خانہ میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
ویڈیو میں آنر 25 نامی بحری جہاز پر موجود سیکنڈ آفیسر حسین یوسف اور امین شمس کو انڈونیشین عملے کے دیگر ارکان کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ویڈیو کے عقب میں اسلحہ بردار قزاق بھی موجود ہیں۔
ویڈیو پیغام میں حسین یوسف نے کہا کہ انہیں اغوا ہوئے 26 دن گزر چکے ہیں لیکن اب تک انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ رہائی کے لیے کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں یا نہیں، جہاز پر خوراک تقریباً ختم ہوچکی ہے اور قزاق صرف تھوڑے سے چاول دیتے ہیں جو تمام عملہ آپس میں تقسیم کرکے گزارا کرتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پینے کے لیے جہاز کے ٹینک میں موجود گندا پانی استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ عملے کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ حسین یوسف نے حکومتِ پاکستان اور جہاز چلانے والی کمپنی سے اپیل کی کہ خدا کے واسطے جلد مذاکرات کرکے انہیں بازیاب کروایا جائے۔ ویڈیو میں موجود انڈونیشین عملے نے بھی اپنی حکومت سے مدد کی درخواست کی۔
واضح رہے کہ 21 اپریل کو صومالی قزاقوں نے ’’آنر 25‘‘ نامی جہاز کو یرغمال بنایا تھا اور تب سے عملہ قزاقوں کے قبضے میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق صومالی قزاق حکومتِ پاکستان سے براہِ راست مذاکرات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سندھ اسمبلی میں بھی اس معاملے پر آواز اٹھائی گئی ہے۔ رکنِ اسمبلی معاذ محبوب نے تین روز قبل یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے قرارداد جمع کروائی تھی۔
ادھر دفتر خارجہ کے ترجمان نے حالیہ ہفتہ وار بریفنگ میں کہا تھا کہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہری تاحال محفوظ ہیں اور انہیں خوراک فراہم کی جا رہی ہے، نئی ویڈیو نے اس دعوے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
