لاہور سمیت پنجاب بھر میں مویشی منڈیوں کے انتظامی ڈھانچے اور نیلامی کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں صوبے کی مجموعی 114 منڈیوں میں سے 108 کی نیلامی کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس نیلامی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 13.28 ارب روپے کی مالیت کے معاہدے طے پائے ہیں، جس کے بعد رواں سال کے لیے مویشی منڈیوں کے انتظامی امور کو ایک واضح مالی فریم ورک کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق 6 منڈیوں کی نیلامی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہو سکا، جس کی وجہ غیر سنجیدہ اور غیر تسلی بخش بولیوں کو قرار دیا گیا ہے۔ ان منڈیوں کو دوبارہ نیلامی کے عمل سے گزارا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبے بھر میں مویشی منڈیوں کے لیے فیسوں کے نظام میں بھی یکساں پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔ بڑے جانوروں کے لیے یونیفائیڈ فیس 1500 روپے جبکہ چھوٹے جانوروں کے لیے 300 روپے مقرر کی گئی ہے، اس کے ساتھ پارکنگ فیس مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے، جسے انتظامی سطح پر ایک سہولت پسندانہ اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اس نیلامی کے عمل میں 16 فیصد پنجاب ریونیو اتھارٹی ٹیکس بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے باعث مجموعی مالیاتی حجم میں شفافیت اور باقاعدگی کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے، اس پورے عمل کے پیچھے بنیادی پالیسی مقصد انتظامی ڈھانچے میں بہتری لانا اور مویشی منڈیوں کے نظام کو زیادہ منظم انداز میں چلانا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سال کی پالیسی خاص طور پر کسانوں کو براہ راست ریلیف دینے، غیر حقیقی اور حد سے زیادہ بولیوں کے رجحان کو کنٹرول کرنے، اور ٹھیکیداروں کی جانب سے ممکنہ ہیرا پھیری کے امکانات کو کم کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔
انتظامی حلقوں کے مطابق مویشی منڈیوں کی نیلامی کا یہ نیا ماڈل مستقبل میں شفافیت اور منصفانہ مقابلے کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ برسوں میں پورے صوبے کے زرعی و منڈی نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
