اسلام آباد: ملک بھر کے بجلی صارفین سے فی یونٹ تقریباً 9 روپے تک اضافی ٹیکس وصول کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس سے گھریلو اور صنعتی صارفین پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق Federal Board of Revenue کی جانب سے توانائی کے شعبے کو اضافی ٹیکس وصولی کے اہم ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے بلوں میں مختلف مدات کے تحت متعدد ٹیکس شامل کیے گئے ہیں۔
بجلی کے بلوں میں مجموعی طور پر 6 مختلف اقسام کے ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، جن میں 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان اضافی محصولات کی وجہ سے صارفین سے فی یونٹ تقریباً 9 روپے تک اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے، جس کے باعث نہ صرف عام گھریلو صارفین بلکہ صنعتی شعبہ بھی شدید مالی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں پہلے ہی اضافے کے بعد مزید ٹیکسز عوام اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
