English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایف پی سی سی آئی نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف مانگ لیا

القمر

اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی سفارش کر دی ہے۔

ایف پی سی سی آئی نے اپنی تجاویز وزارت خزانہ کو باضابطہ طور پر ارسال کر دی ہیں تاکہ معاشی بہتری لائی جا سکے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف پی سی سی آئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملک کے تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی شرح کو موجودہ 35 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد پر لایا جائے۔ اس 5 فیصد کمی سے مہنگائی کے مارے شہریوں کی قوتِ خرید میں بہتری آئے گی اور انہیں مالی مشکلات سے نکلنے کا موقع ملے گا۔

تجاویز میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ تنخواہ دار افراد پر عائد 9 فیصد سرچارج کو بھی فوری طور پر ختم کرے۔ یہ اقدام سرکاری و نجی ملازمین کے لیے ایک بڑا ریلیف ثابت ہوگا اور ٹیکس دہندگان کے لیے معاشی بوجھ میں نمایاں کمی لانے کا باعث بنے گا۔

صنعتی ترقی کے حوالے سے ایف پی سی سی آئی نے کہا ہے کہ سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کیا جانا ضروری ہے، تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ برآمدات میں اضافے کے لیے گڈز ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے فائنل ٹیکس ریجیم کو بحال کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

آئی ٹی سیکٹر کے بارے میں تجویز دی گئی ہے کہ اس شعبے پر برآمدی ٹیکس کی موجودہ 25 فیصد شرح کو سال 2035 تک برقرار رکھا جائے تاکہ ڈیجیٹل معیشت ترقی کر سکے۔ مزید برآں ایس ایم ای کے لیے ٹرن اوور کی حد 25 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تجاویز کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے کو سہارا دینے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کو 29 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کیا جائے۔ ان تجاویز کا مقصد صنعتی عمل کو آسان بنانا، ملکی برآمدات کو بڑھانا اور عام آدمی کی مالی مشکلات کو کم کر کے ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے