English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کو سزائے موت، 30 سال قید اور جرمانہ بھی عائد

القمر

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی ہے۔ عدالت نے ملزم پر مجموعی طور پر 30 سال قید اور 24 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے جبکہ مختلف دفعات کے تحت مزید سزائیں بھی سنائی گئیں۔

یہ فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ملزم کو دیگر دفعات کے تحت 10، 10 سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں، جن میں ڈکیتی اور گھر میں گھسنے کی دفعات شامل ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت میں استغاثہ کی جانب سے ملزم کی مبینہ کالز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس بطور شواہد پیش کیے گئے۔ مدعی کے وکیل نے ملزم کو دو مرتبہ سزائے موت دینے کی استدعا بھی کی جبکہ دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کو فیئر ٹرائل کا حق ملنا چاہیے اور معاملے کو پہلے سے طے شدہ سمجھ کر فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

دفاعی وکیل نے مزید کہا کہ ان کے مؤکل نے دوران سماعت مختلف درخواستیں دائر کی ہیں جو ہائیکورٹ میں زیر التوا ہیں اور یہ کہ مقدمے کو جذباتی یا سماجی دباؤ کے تحت نہیں چلایا جانا چاہیے۔ تاہم عدالت نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔

سماعت کے دوران ملزم عمر حیات نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقتولہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ تاہم جج نے استفسار کیا تھا کہ تفتیش کے دوران مقتولہ کے فون سے ایک نمبر سامنے آیا جو فارنزک رپورٹ کے مطابق ملزم سے منسلک پایا گیا۔

یاد رہے کہ ثنا یوسف کو 2 جون 2025 کو اسلام آباد میں ان کے گھر میں قتل کیا گیا تھا جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 3 جون کو ملزم کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں 13 جون کو شناخت پریڈ ہوئی، 20 ستمبر کو فردِ جرم عائد کی گئی، اور 25 ستمبر کو پہلی گواہی ریکارڈ کی گئی۔

مقدمے میں مجموعی طور پر 31 گواہان شامل تھے جن میں سے 27 کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ تمام شواہد اور گواہی مکمل ہونے کے بعد عدالت نے آج فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو سزا سنائی۔

یہ کیس سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ کا مرکز رہا، جہاں شہریوں کی بڑی تعداد نے عدالتی فیصلے کو انصاف کی فراہمی قرار دیتے ہوئے سراہا ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے