اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایران آمد کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس سے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی نئی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔ عالمی سطح پر اس پیش رفت کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے مابین مجوزہ معاہدے کا حتمی مسودہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور اسے حتمی شکل دینے کے لیے سفارتی سطح پر رابطوں کا سلسلہ انتہائی تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام جلد ہی اس معاہدے کے باضابطہ اعلان کی توقع کر رہے ہیں۔
پاکستان اس نازک صورتحال میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو بار ایران کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے وہاں ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔
ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا اہم مرحلہ عید الاضحیٰ کے بعد اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
پاکستان کی جانب سے ثالثی کا یہ عمل مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے جسے عالمی حلقے سراہ رہے ہیں۔
اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس پیش رفت کا عندیہ دے چکے ہیں اور انہوں نے تہران پر منصوبہ بند حملوں کو روک کر مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کیا ہے۔ ان کے اس فیصلے سے ایران کو اپنی پوزیشن واضح کرنے اور کشیدگی کم کرنے کا موقع مل گیا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے بھی امریکی صدر کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کے لیے سودمند قرار دیا ہے۔ تمام متعلقہ فریقین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں جاری موجودہ بحرانی کیفیت میں نمایاں کمی آئے گی اور استحکام بحال ہوگا۔
واضح رہے کہ اس پورے عمل میں پاکستان کا کردار نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی امن کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو اس سے نہ صرف جنگی خطرات ٹل جائیں گے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔
