English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مہنگائی کے اثرات عیدالاضحیٰ پر بھی نمایاں، قربانی کے جانوروں کی تعداد میں مسلسل کمی

القمر

اسلام آباد: ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث ہر سال قربانی کے جانوروں کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ متوسط اور سفید پوش طبقہ عیدالاضحیٰ پر قربانی جیسے اہم مذہبی فریضے کی ادائیگی میں بھی مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ پاکستان میں قربانی کے جانوروں کی تعداد میں واضح کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو ہزار بائیس میں ملک بھر میں تقریباً ایک کروڑ جانور قربان کیے گئے تھے، تاہم مسلسل بڑھتی مہنگائی اور کمزور معاشی صورتحال کے باعث یہ تعداد کم ہو کر تقریباً پینسٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق جانوروں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے، چارے، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات بڑھنے کے باعث عام آدمی کے لیے قربانی کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی دباؤ نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کا اثر عیدالاضحیٰ کی سرگرمیوں پر بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔

پروگرام میں شریک ماہرِ معاشیات ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب وہ افراد بھی قربانی کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں جن کی آمدنی نسبتاً بہتر سمجھی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ روزمرہ ضروریات، بجلی، گیس اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ متوسط طبقہ اس وقت سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہے کیونکہ ایک طرف آمدنی محدود ہے جبکہ دوسری جانب اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق بہت سے خاندان اب اجتماعی قربانی یا حصے ڈالنے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ مذہبی فریضہ کسی نہ کسی صورت ادا کیا جا سکے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے