دنیا بھر میں فلکیات سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے اکتیس مئی دو ہزار چھبیس ایک خاص دن ثابت ہوگا کیونکہ اس روز ایک ہی مہینے کے دوران دوسری بار مکمل چاند آسمان پر جگمگاتا دکھائی دے گا، جسے فلکیاتی اصطلاح میں ’’بلیو مون‘‘ کہا جاتا ہے۔
رواں برس مئی کا پہلا مکمل چاند یکم مئی کو طلوع ہوا تھا جبکہ دوسرا مکمل چاند اکتیس مئی کو نظر آئے گا۔ فلکیاتی ماہرین کے مطابق جب کسی ایک انگریزی مہینے میں دو مرتبہ مکمل چاند دکھائی دے تو دوسرے مکمل چاند کو ’’بلیو مون‘‘ کہا جاتا ہے۔
ماہرین نے وضاحت کی ہے کہ بلیو مون سے مراد چاند کا رنگ نیلا ہونا نہیں بلکہ یہ صرف ایک فلکیاتی اصطلاح ہے جو مہینے کے دوسرے مکمل چاند کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اگرچہ بعض موسمی یا فضائی اثرات کے باعث چاند کبھی کبھار نیلگوں دکھائی دے سکتا ہے، اس فلکیاتی واقعے کا اصل تعلق چاند کے رنگ سے نہیں۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق دو ہزار چھبیس کے دوران مجموعی طور پر بارہ کے بجائے تیرہ مکمل چاند نظر آئیں گے اور اس اضافی مکمل چاند کی وجہ یہی بلیو مون ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق ’’بلیو مون‘‘ کی اصطلاح انیس سو چالیس کی دہائی میں مقبول ہوئی جب جیمز ہیوگ پریوٹ نامی شخص نے ایک جریدے میں غلطی سے اس اصطلاح کو استعمال کیا، جو بعد ازاں دنیا بھر میں مشہور ہوگئی۔
دوسری قسم ’’منتھلی بلیو مون‘‘ ہے، جس میں ایک ہی مہینے کے دوران دو مکمل چاند دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے قبل ایسا منظر آخری مرتبہ اگست دو ہزار تئیس میں دیکھا گیا تھا۔
فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی کے دونوں مکمل چاند ’’مائیکرو مون‘‘ بھی ہوں گے، یعنی وہ عام مکمل چاند کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹے اور کم روشن دکھائی دیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت چاند زمین سے اپنے سب سے زیادہ فاصلے پر ہوگا۔
