کراچی: پاکستان بھر میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے جہاں لاکھوں فرزندانِ اسلام نے نمازِ عید ادا کرنے کے بعد سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کا آغاز کردیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت سے لے کر چاروں صوبوں کے بڑے اور چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات تک مساجد، عیدگاہوں، امام بارگاہوں اور کھلے میدانوں میں نمازِ عید کے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے جن میں ملکی سلامتی، استحکام، امت مسلمہ کے اتحاد اور فلسطین و کشمیر کے مسلمانوں کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
اسلام آباد میں فیصل مسجد سمیت مختلف عبادت گاہوں میں نمازِ عید کے روح پرور اجتماعات منعقد ہوئے جہاں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نماز کے بعد افواج پاکستان، ملکی سلامتی اور قومی ترقی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
لاہور میں بھی عیدالاضحیٰ بھرپور مذہبی ماحول میں منائی گئی جہاں صبح سویرے سے مختلف علاقوں میں نمازِ عید کے اجتماعات کا سلسلہ جاری رہا۔ جامعہ نعیمیہ سمیت کئی دینی مراکز میں علمائے کرام نے خطبات میں قربانی کی اہمیت اور حضرت ابراہیمؑ کے جذبۂ اطاعت پر روشنی ڈالی۔
پنجاب بھر میں عید اجتماعات کی سیکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے جبکہ لاہور میں ہزاروں پولیس اہلکار، ٹریفک وارڈنز، ڈولفن فورس اور پیرو اسکواڈ کے اہلکار تعینات رہے۔ بڑی مساجد اور عیدگاہوں کے اطراف واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز بھی نصب کیے گئے تاکہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
راولپنڈی، پشاور، سرائے مغل، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں بھی نمازِ عید کے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے جہاں لوگوں نے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کیا۔
کراچی میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہر بھر کی مساجد، امام بارگاہوں اور کھلے میدانوں میں نمازِ عید ادا کی گئی۔
علمائے کرام نے اپنے خطبات میں قربانی کے فلسفے، اخوت، بھائی چارے اور ایثار کے جذبے کو اجاگر کیا۔ نماز کے بعد شہریوں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی جبکہ مختلف علاقوں میں قربانی کا عمل شروع ہوگیا۔
سندھ پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات رہی۔
ملک بھر میں قربانی کے بعد گوشت غریبوں، مستحقین اور سفید پوش خاندانوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ عید کی خوشیوں میں سب کو شریک کیا جا سکے۔
دوسری جانب میونسپل اداروں، ٹاؤن کمیٹیوں اور بلدیاتی اداروں نے صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات کیے ہیں اور آلائشیں بروقت اٹھانے کے لیے خصوصی ٹیمیں متحرک کردی گئی ہیں تاکہ شہروں میں صفائی کا نظام برقرار رکھا جا سکے۔
