ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں تہران نے امریکی فضائی کارروائیوں کو جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دے دی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ گزشتہ 2 روز کے دوران امریکا نے صوبہ ہرمزگان اور آبنائے ہرمز میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جس سے خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں میزائل تنصیبات اور ان کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں امریکا کا دعویٰ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
اگرچہ تہران نے ان الزامات کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گی۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز میں کی جانے والی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور ان کا مقصد عالمی بحری راستوں کو محفوظ رکھنا تھا۔ واشنگٹن کے مطابق اگر خطے میں بارودی سرنگیں بچھائی جاتیں تو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوسکتی تھی۔
دوسری جانب ایران نے امریکی اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی بحری راستے سے گزرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اُدھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ تمام تر کشیدگی کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوا اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے میں چند روز لگ سکتے ہیں، تاہم امریکا خطے میں اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
