واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق اہم پیش رفت اور دیگر حساس عالمی معاملات پر غور کے لیے اپنی کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کرلیا ہے جو روایتی انداز کے برعکس وائٹ ہاؤس کے بجائے صدارتی ریزورٹ کیمپ ڈیوڈ میں منعقد ہوگا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ اجلاس غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے کیونکہ اسے اچانک ترتیب دیا گیا اور اس میں کابینہ کے اہم ارکان کے علاوہ قومی سلامتی سے وابستہ اعلیٰ حکام بھی شریک ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق اجلاس میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات، ممکنہ جنگ بندی، خطے کی صورتحال اور نئی سفارتی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ اس وقت تہران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور ایک نئی مفاہمتی ڈیل کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، تاہم اس معاملے پر امریکی سیاسی حلقوں خصوصاً ریپبلکن پارٹی کے اندر شدید اختلافات سامنے آرہے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے کئی بااثر رہنما اور سخت گیر حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ واشنگٹن ایران کے معاملے میں ضرورت سے زیادہ نرمی دکھا رہا ہے۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام، خطے میں اس کے اثر و رسوخ اور علاقائی سرگرمیوں کے حوالے سے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں سخت شرائط شامل ہونی چاہییں۔
ناقدین کے مطابق تہران پر دباؤ برقرار رکھنا امریکا کے مفاد میں ہے اور نرم رویہ مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کو وائٹ ہاؤس سے دور کیمپ ڈیوڈ منتقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اعلیٰ حکام سیاسی دباؤ، میڈیا کی توجہ اور عوامی ہنگامہ آرائی سے دور رہ کر حساس معاملات پر کھل کر مشاورت کرسکیں۔
کیمپ ڈیوڈ ماضی میں بھی امریکی صدور کی جانب سے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہی مقام 1978 کے تاریخی کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے باعث عالمی شہرت رکھتا ہے جس نے مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی بنیاد رکھی تھی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ پیش رفت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے، اسی لیے واشنگٹن میں ہونے والی یہ مشاورت عالمی سطح پر خاصی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
