English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایران امریکا مذاکرات: 60 فیصد افزودہ یورینیم بڑی رکاوٹ، معاہدہ غیر یقینی

القمر

تہران: ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کشمکش میں ایک اور اہم موڑ آ گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ ایک بین الاقوامی سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر صراحت کے ساتھ کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا معاملہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کے ایجنڈے میں سرے سے شامل ہی نہیں ہے۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے م طابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کسی صورت ایران کو 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔

بین الاقوامی حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق 60 فیصد افزودگی کی سطح پر موجود یورینیم کا مستقبل اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے میں سب سے بڑا اختلافی نکتہ بن کر ابھرا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ 60 فیصد افزودگی ابھی ہتھیاروں کے لیے ضروری 90 فیصد سے کم ہے، تاہم اس سطح کے بعد جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار افزودگی تک پہنچنا زیادہ وقت نہیں لیتا، یہی وجہ ہے کہ امریکا اس معاملے پر کسی بھی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہے۔

ماہرین سمجھتے ہیں کہ جب تک اس اہم نکتے پر دونوں فریق کسی قابلِ قبول فارمولے تک نہیں پہنچتے، کسی پائیدار جوہری معاہدے کا امکان بہت کم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے