لاہور میں یومِ تکبیر کے موقع پر جماعت اسلامی پاکستان کے رہنماؤں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تاریخی جدوجہد، سائنسی محنت اور اس میں شامل شخصیات کی قربانیوں کو بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت کے حصول میں جن مشکل حالات، عالمی دباؤ اور تکنیکی رکاوٹوں کا سامنا کیا، وہ کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے ایک بڑا امتحان تھا لیکن پاکستان نے یہ تمام چیلنجز کامیابی سے عبور کیے۔
انہوں نے خاص طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے دفاعی پروگرام کے معماروں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس مقصد کے لیے وقف کیا،پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز نے انتہائی محدود وسائل اور شدید عالمی دباؤ کے باوجود تاریخی کامیابی حاصل کی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد ایک طویل جدوجہد، سائنسی محنت اور قومی عزم پر رکھی گئی تھی، جس میں کئی ماہرین نے دن رات کام کیا، یہ کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک پوری ٹیم کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے یومِ تکبیر کے موقع پر کہا کہ 28 مئی 1998 پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے جب ملک نے اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا ، یہ دن قومی اتحاد، خودداری اور قربانی کی علامت ہے۔
واضح ر ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی کامیابی کے باوجود اس سے وابستہ بعض شخصیات خصوصاً ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ بعد کے ادوار میں پیش آنے والے حالات ایک متنازع اور حساس باب کے طور پر دیکھے جاتے ہیں، جس پر آج بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
