ملک بھر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی محنت اور کاوشوں کو یوم تکبیر کے موقع پر خراج تحسین پیش کیا گیا، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو خطے میں طاقت کے توازن اور دفاعی خودمختاری کی ایک بڑی علامت سمجھا جاتا ہے اور اس سفر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کردار انتہائی اہم اور مرکزی رہا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے اُن اہم سائنسدانوں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے یورینیم افزودگی کے شعبے میں بنیادی تحقیق اور عملی ڈیزائن پر کام کیا۔ مختلف رپورٹس اور تاریخی بیانات کے مطابق انہوں نے طویل عرصے تک پاکستان میں جوہری ٹیکنالوجی کے قیام کے لیے تکنیکی محنت کی، اور ایک ایسے وقت میں یہ کام کیا جب پاکستان کو شدید عالمی دباؤ، پابندیوں اور محدود وسائل کا سامنا تھا۔
پاکستان نے 28 مئی 1998 کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں کامیاب ایٹمی تجربات کیے، جس کے بعد ملک کو ایک باقاعدہ ایٹمی طاقت کی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ دن آج بھی یومِ تکبیر کے طور پر منایا جاتا ہے اور اسے پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ سمجھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات کو ملک کے اندر بڑے پیمانے پر سراہا گیا، تاہم بعد کے برسوں میں ان کے گرد ایک تنازع بھی سامنے آیا۔ مختلف بین الاقوامی اور سرکاری سطح کے معاملات کے بعد ان پر جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق بعض الزامات بھی لگے، جس کے نتیجے میں وہ طویل عرصے تک عوامی اور سرکاری سطح پر محدود رہے۔
