یورپی یونین نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف مبینہ پرتشدد کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے منسلک بعض اسرائیلی آبادکاروں کے اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے 4 اداروں اور 3 افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکار مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سنگین اور منظم نوعیت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث رہے ہیں۔
یورپی یونین کونسل کے مطابق ان پابندیوں کی منظوری اس بنیاد پر دی گئی ہے کہ متعلقہ افراد اور ادارے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، املاک کی تباہی اور علاقے میں کشیدگی بڑھانے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں نچالا سیٹلمنٹ موومنٹ اور اس کی ڈائریکٹر ڈینیلا ویز شامل ہیں، جن پر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی اور سہولت کاری کے الزامات ہیں۔
اسی طرح اسرائیلی این جی او ویگاوم اور اس کے ڈائریکٹر میئر ڈیوش پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں، جن پر مغربی کنارے میں آبادکاری کی توسیع، فلسطینی املاک کی مسماری اور یورپی فنڈ سے چلنے والے تعلیمی منصوبوں کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مزید برآں ہاشومر یوش اور اس کی صدر ایویشی سوئسا کو بھی پابندیوں میں شامل کیا گیا ہے، جن پر متعدد پرتشدد واقعات اور آبادکاری کے اقدامات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، دی آمانا کوآپریٹیو ایسوسی ایشن گوچ ایمونیم پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں، جو مالی معاونت اور آبادکاری کے توسیعی منصوبوں میں کردار ادا کرتی رہی ہے۔
یورپی یونین کے اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو مغربی کنارے میں جاری کشیدگی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
