وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر سمیت دیگر پارلیمنٹرینز کی گلگت بلتستان میں گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خود گلگت جانے کا اعلان کر دیا ہے۔
پشاور سے جاری بیان میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر گرفتار ارکانِ پارلیمنٹ کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو وہ خود گلگت بلتستان جا کر اس معاملے پر حکومتی اور انتظامی سطح پر سوال اٹھائیں گے، منتخب نمائندوں کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختون نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات ملک میں سیاسی کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایسے طرزِ عمل سے نفرتیں اور تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ جمہوری نظام کمزور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی عمل میں برابری کے مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے اور سیاسی مخالفین کو دباؤ میں لا کر منظرنامے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ رویہ جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے اور اسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت کے وزیراعلیٰ نے ان کی کال کا جواب نہیں دیا، جو ان کے مطابق ایک غیر جمہوری اور غیر سیاسی رویہ ہے، منتخب نمائندوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک علاقائی سیاست کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے یہ بھی کہا کہ گلگت بلتستان کو کسی صورت نو گو ایریا نہیں بننے دیا جائے گا اور وہاں کے عوام باشعور اور مہمان نواز ہیں، عوام ایسے اقدامات کا جواب آئندہ انتخابات میں اپنے ووٹ کے ذریعے دیں گے۔
