English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا کی عمان کو سخت وارننگ، آبنائے ہرمز تنازع مزید شدت اختیار کرگیا

القمر

واشنگٹن: امریکا نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے سخت مؤقف کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے عمان کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کو بحری راستے پر ٹول وصولی کے کسی نظام میں مدد فراہم کی تو اسے سخت پابندیوں اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سیکریٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ واشنگٹن کسی بھی ایسے اقدام کو قبول نہیں کرے گا جس کے ذریعے اس اہم عالمی تجارتی گزرگاہ سے گزرنے والے کمرشل جہازوں پر اضافی فیس عائد کی جائے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ خصوصاً عمان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ امریکی وزارت خزانہ آبنائے ہرمز میں ٹول یا فیس کے کسی بھی نظام میں براہ راست یا بالواسطہ معاونت کرنے والے ممالک کے خلاف جارحانہ کارروائی کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایسے تمام شراکت داروں کو سزا دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے جو عالمی تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے والے اقدامات کا حصہ بنیں گے۔

امریکی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے ممالک کو چاہیے کہ وہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ تجارتی سرگرمیوں کے خلاف ایران کی ممکنہ کوششوں کو مکمل طور پر مسترد کردیں۔ تہران اب خطے اور عالمی برادری کو دباؤ میں رکھنے کی پوزیشن میں نہیں رہا اور عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی عمان کو سخت لہجے میں خبردار کرچکے ہیں۔

ٹرمپ نے خطے میں جاری کشیدگی، امریکا ایران تنازع اور ثالثی کے معاملات کے تناظر میں عمان کو بمباری تک کی دھمکی دی تھی، حالانکہ عمان کو واشنگٹن کا اہم سیکیورٹی اور معاشی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے تجویز دی ہے کہ تہران اور مسقط مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز کے انتظامی معاملات سنبھال سکتے ہیں، تاہم عمان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے اپنے قریبی اتحادی عمان کے خلاف اس نوعیت کے بیانات انتہائی غیرمعمولی سمجھے جا رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور عالمی طاقتیں اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے