بھارت میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا انتہا پسندوں کی کارروائیوں اور مذہبی اشتعال انگیزی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد انسانی حقوق کے حلقوں اور عالمی مبصرین نے مودی حکومت کی پالیسیوں پر سخت سوالات اٹھانا شروع کردیے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق مختلف بھارتی ریاستوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق مسلمانوں کو عید کی نماز، قربانی اور مذہبی اجتماعات کے حوالے سے شدید مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی نشریاتی اور تحقیقی اداروں کی رپورٹس کے مطابق حالیہ برسوں میں بھارت میں مسلمانوں کے لیے عوامی مقامات پر عید کی نماز کی اجازت حاصل کرنا مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
معروف بین الاقوامی جریدے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کئی شہروں میں مسلمانوں کو کھلے مقامات پر نماز ادا کرنے سے روکا گیا جبکہ بعض مقامات پر مذہبی اجتماعات کے خلاف دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بھارت میں مذہبی آزادی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی عکاسی کرتی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ممبئی میں عیدالاضحیٰ کے دوران قربانی کے جانوروں کو دیکھ کر ہندوتوا گروہوں نے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ بعض انتہا پسند عناصر نے مذہبی اشتعال انگیزی کے لیے خنزیر لاکر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی، جبکہ مسلمانوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے صورتحال کو قابو کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کیے رکھی۔
اُدھر کشمیری حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل آٹھویں برس بھی کشمیری مسلمانوں کو تاریخی عیدگاہ اور جامع مسجد میں نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں عید کے موقع پر گھرمیں نظر بند رکھا گیا اور کشمیری مسلمانوں کو ان کی مذہبی روایات اور اجتماعی یادوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال میں گائے ذبح کرنے سے متعلق نئے قواعد نافذ ہونے کے بعد عیدالاضحیٰ سے قبل مویشی منڈیوں میں خریدوفروخت نمایاں طور پر متاثر ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز رویوں اور انتہا پسندانہ سوچ میں خطرناک اضافہ ہوا ہے، جبکہ سیاسی مبصرین کے مطابق ہندوتوا تنظیموں کو سیاسی فائدے کیلئے کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے، جس سے بھارت کی سماجی ہم آہنگی شدید متاثر ہورہی ہے۔
