بحرِ اوقیانوس میں فرانس نے ایک روسی آئل ٹینکر کو روک کر اپنی تحویل میں لے لیا ہے، جس کے بعد یورپی ممالک کی جانب سے روسی بحری سرگرمیوں کے خلاف جاری اقدامات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق فرانسیسی حکام کا مؤقف ہے کہ “ٹیگور” نامی روسی آئل ٹینکر بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی میں ملوث تھا، جس کے باعث اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ فرانس عالمی پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور اسی پالیسی کے تحت یہ کارروائی کی گئی۔
فرانسیسی صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آپریشن میں برطانیہ سمیت متعدد اتحادی ممالک نے تعاون اور حمایت فراہم کی، بحری جہاز کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ بین الاقوامی پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہو جو جاری جنگ کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کا سبب بنیں۔
دوسری جانب بحرِ اوقیانوس کے میری ٹائم پریفیکچر نے اپنے الگ بیان میں بتایا کہ فرانسیسی بحریہ نے روس سے آنے والے مذکورہ آئل ٹینکر کو برٹنی کے مغرب میں تقریباً 740 کلومیٹر دور سمندری حدود میں روک کر کارروائی کی۔ حکام کے مطابق کارروائی بین الاقوامی قوانین اور پابندیوں کے نفاذ کے تناظر میں انجام دی گئی۔
یاد رہے کہ فرانس اور برطانیہ گزشتہ کئی ماہ سے ان بحری جہازوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں جنہیں روس کے مبینہ “شیڈو فلیٹ” کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز مختلف پابندیوں سے بچنے اور روسی تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر رواں سال مارچ میں اعلان کر چکے ہیں کہ برطانوی فوج کو ایسے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی اور انہیں روکنے کے اختیارات دے دیے گئے ہیں جو برطانوی سمندری حدود یا ان کے قریب سے گزرتے ہوئے پابندیوں کی خلاف ورزی کے شبہے میں ہوں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روسی آئل ٹینکر کے خلاف حالیہ کارروائی اس بات کی عکاس ہے کہ یورپی ممالک روس پر عائد معاشی اور تجارتی پابندیوں کے نفاذ کو مزید سخت بنانے کی پالیسی پر گامزن ہیں، جس کے نتیجے میں سمندری راستوں پر نگرانی اور کارروائیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
