ٹوکیو/تہران: جاپان کے وزیراعظم نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ایرانی صدر کے ساتھ گفتگو میں مذاکرات کے ذریعے موجودہ صورتحال پر قابو پانے کے مؤقف کا اعادہ کیا، ایران جلد از جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا اور زیادہ سے زیادہ لچک کا مظاہرہ جاری رکھے گا۔
انہوں نے ایرانی صدر پر زور دیا کہ جاپان سمیت تمام ایشیائی ممالک کے تجارتی اور مال بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے آزادانہ اور محفوظ گزرگاہ فراہم کی جائے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ صرف ایران اور عمان ہی وہ دو ممالک ہیں جنہیں آبنائے ہرمز پر خودمختاری کے استعمال کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے آبی گزرگاہ میں جہاز رانی اور ٹریفک کے کنٹرول سے متعلق نیا ضابطۂ کار نافذ کیا ہے اور اس حوالے سے عمان کو اعتماد میں لیا گیا ہے، تہران نے عمان پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ اور دھمکیوں کی پروا نہ کرے۔
واضح رہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ عمان کو بھی آبنائے ہرمز کے معاملے میں دیگر ممالک کی طرح برتاؤ کرنا ہوگا۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب نے ایرانی جزیروں پر امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے میزائل حملوں کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے مطابق اس نے خطے میں اس فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے صوبہ ہرمزگان کے علاقے سیرک میں واقع ایک مواصلاتی ٹاور پر حملہ کیا گیا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران تمام طے شدہ اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا اور مشن اپنے مقررہ مقاصد کے مطابق مکمل کیا گیا۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور متضاد بیانات کے باعث عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ دنیا کی تیل کی بڑی ترسیلات اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔
